چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہو

امام بخش ناسخ

چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہو

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہو

    صدمہ شیشہ کو جو پہنچے تو صدا پیدا ہو

    کشتۂ تیغ جدائی ہوں یقیں ہے مجھ کو

    عضو سے عضو قیامت میں جدا پیدا ہو

    ہم ہیں بیمار محبت یہ دعا مانگتے ہیں

    مثل اکسیر نہ دنیا میں دوا پیدا ہو

    کہہ رہا ہے جرس قلب بآواز بلند

    گم ہو رہبر تو ابھی راہ خدا پیدا ہو

    کس کو پہنچا نہیں اے جان ترا فیض قدم

    سنگ پر کیوں نہ نشان کف پا پیدا ہو

    مل گیا خاک میں پس پس کے حسینوں پر میں

    قبر پر بوئیں کوئی چیز حنا پیدا ہو

    اشک تھم جائیں جو فرقت میں تو آہیں نکلیں

    خشک ہو جائے جو پانی تو ہوا پیدا ہو

    یاں کچھ اسباب کے ہم بندے ہی محتاج نہیں

    نہ زباں ہو تو کہاں نام خدا پیدا ہو

    گل تجھے دیکھ کے گلشن میں کہیں عمر دراز

    شاخ کے بدلے وہیں دست دعا پیدا ہو

    بوسہ مانگا جو دہن کا تو وہ کیا کہنے لگے

    تو بھی مانند دہن اب کہیں نا پیدا ہو

    نہ سر زلف ملا بل بے درازی تیری

    رشتۂ طول امل کا بھی سرا پیدا ہو

    کس طرح سچ ہے نہ خورشید کو رجعت ہو جائے

    تجھ سا آفاق میں جب ماہ لقا پیدا ہو

    ابھی خورشید جو چھپ جائے تو ذرات کہاں

    تو ہی پنہاں ہو تو پھر کون بھلا پیدا ہو

    کیا مبارک ہے مرا دست جنوں اے ناسخؔ

    بیضۂ بوم بھی ٹوٹے تو ہما پیدا ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY