چرائے نظریں کبھی مڑ کے دیکھتا بھی ہے

نذیر نظر

چرائے نظریں کبھی مڑ کے دیکھتا بھی ہے

نذیر نظر

MORE BYنذیر نظر

    چرائے نظریں کبھی مڑ کے دیکھتا بھی ہے

    کہ تیر ترچھی نگاہوں کے پھینکتا بھی ہے

    عجیب شخص ہے لکھ کر پھر اپنے دل کا ورق

    نہ جانے کون سی وحشت میں موڑتا بھی ہے

    تم اس پہ چل کے مری ذات میں چلے آؤ

    یہ پل صراط تمہارے لیے کھلا بھی ہے

    سمجھ کے سوچ کے آنا کہ اس محبت میں

    جہاں سکون ہے اس میں تو رت جگا بھی ہے

    میں اس حقیر کو آخر یہ کیسے سمجھاؤں

    فقط خطا ہی نہیں عشق معجزہ بھی ہے

    میں جس کو مار کے زندہ بھی رہ نہیں سکتا

    وہی ضمیر ہے میرا وہی خدا بھی ہے

    بڑے جتن سے ملا ہجر دائمی مجھ کو

    یہی مرض ہے مرا اور یہی دوا بھی ہے

    بھلے زمانے نے بھر دی ہوں تلخیاں مجھ میں

    مری زبان پہ اردو کا ذائقہ بھی ہے

    بڑے ہی غور سے سنتا ہے سارے شعر مگر

    غلط کہن پہ مجھے بڑھ کے ٹوکتا بھی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Word File Mail By Salim Saleem

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY