داغ دل ہم کو یاد آنے لگے

باقی صدیقی

داغ دل ہم کو یاد آنے لگے

باقی صدیقی

MORE BY باقی صدیقی

    INTERESTING FACT

    باقی صدیقی کی یہ مشہور غزل ہے جو خود ریڈیو پاکستان میں ملازمت کرتے تھے ۔انھوں یہ غزل لکھ کر خود اپنے ہاتھ سے مشہور غزل گائک اقبال بانو کو دی تھی ۔ اقبال بانو کی شہرت کی وجہ بھی یہ غزل بنی

    داغ دل ہم کو یاد آنے لگے

    لوگ اپنے دیئے جلانے لگے

    کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم

    عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے

    یہی رستہ ہے اب یہی منزل

    اب یہیں دل کسی بہانے لگے

    خود فریبی سی خود فریبی ہے

    پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے

    اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں

    ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے

    اس بدلتے ہوئے زمانے میں

    تیرے قصے بھی کچھ پرانے لگے

    رخ بدلنے لگا فسانے کا

    لوگ محفل سے اٹھ کے جانے لگے

    ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے

    بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے

    اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو

    تیر پر اڑ کے بھی نشانے لگے

    ہم تک آئے نہ آئے موسم گل

    کچھ پرندے تو چہچہانے لگے

    شام کا وقت ہو گیا باقیؔ

    بستیوں سے شرار آنے لگے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY