داغ جو اب تک عیاں ہیں وہ بتا کیسے مٹیں

شیو کمار بلگرامی

داغ جو اب تک عیاں ہیں وہ بتا کیسے مٹیں

شیو کمار بلگرامی

MORE BYشیو کمار بلگرامی

    داغ جو اب تک عیاں ہیں وہ بتا کیسے مٹیں

    فاصلے جو درمیاں ہیں وہ بتا کیسے مٹیں

    ایک مدت سے دلوں میں درد کی ہیں بستیاں

    درد کی جو بستیاں ہیں وہ بتا کیسے مٹیں

    رات بھر سویا نہیں میں بس اسی اک فکر میں

    ان سنی کچھ سسکیاں ہیں وہ بتا کیسے مٹیں

    کس طرح رشتوں میں آئی تلخیاں یہ پھر کجی

    بے سبب جو تلخیاں ہیں وہ بتا کیسے مٹیں

    شمع کل جلتی رہی ہے دیر تک اس سوچ میں

    کچھ اندھیرے بے زباں ہیں وہ بتا کیسے مٹیں

    جو پرانے تھے گنہ وہ دھو دیئے تو نے مگر

    خون کے تازہ نشاں ہیں وہ بتا کیسے مٹیں

    میں غموں کے بادلوں کی بات اب کرتا نہیں

    خوف کے جو آسماں ہیں وہ بتا کیسے مٹیں

    مآخذ :
    • کتاب : Nai Kahkashan (Pg. 130)
    • Author : Shivkumar Bilagrami
    • مطبع : Amrit Prakashan (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY