دامن گل میں کہیں خار چھپا دیکھتے ہیں

عاصم واسطی

دامن گل میں کہیں خار چھپا دیکھتے ہیں

عاصم واسطی

MORE BYعاصم واسطی

    دامن گل میں کہیں خار چھپا دیکھتے ہیں

    آپ اچھا نہیں کرتے کہ برا دیکھتے ہیں

    ہم سے وہ پوچھ رہے ہیں کہ کہاں ہے اور ہم

    جس طرف آنکھ اٹھاتے ہیں خدا دیکھتے ہیں

    کچھ نہیں ہے کہ جو ہے وہ بھی نہیں ہے موجود

    ہم جو یوں محو تماشا ہیں تو کیا دیکھتے ہیں

    لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص ہے خوشبو جیسا

    ساتھ شاید اسے لے آئے ہوا دیکھتے ہیں

    زاویہ دھوپ نے کچھ ایسا بنایا ہے کہ ہم

    سائے کو جسم کی جنبش سے جدا دیکھتے ہیں

    اس قدر تازگی رکھی ہے نظر میں ہم نے

    کوئی منظر ہو پرانا تو نیا دیکھتے ہیں

    اب کہیں شہر میں عاصمؔ ہے نہ غالبؔ کوئی

    کس کے گھر جائے یہ سیلاب بلا دیکھتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY