داستانوں میں ملے تھے داستاں رہ جائیں گے

فاضل جمیلی

داستانوں میں ملے تھے داستاں رہ جائیں گے

فاضل جمیلی

MORE BYفاضل جمیلی

    داستانوں میں ملے تھے داستاں رہ جائیں گے

    عمر بوڑھی ہو تو ہو ہم نوجواں رہ جائیں گے

    شام ہوتے ہی گھروں کو لوٹ جانا ہے ہمیں

    ساحلوں پر صرف قدموں کے نشاں رہ جائیں گے

    ہم کسی کے دل میں رہنا چاہتے تھے اس طرح

    جس طرح اب گفتگو کے درمیاں رہ جائیں گے

    خواب کو ہر خواب کی تعبیر ملتی ہے کہاں

    کچھ خیال ایسے بھی ہیں جو رائیگاں رہ جائیں گے

    کس نے سوچا تھا کہ رنگ و نور کی بارش کے بعد

    ہم فقط بجھتے چراغوں کا دھواں رہ جائیں گے

    زندگی بے نام رشتوں کے سوا کچھ بھی نہیں

    جسم کس کے ساتھ ہوں گے دل کہاں رہ جائیں گے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    فاضل جمیلی

    فاضل جمیلی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY