دبے لفظوں کیا وعدہ بخوبی ہم نبھائیں گے
دبے لفظوں کیا وعدہ بخوبی ہم نبھائیں گے
محبت کا تقاضا ہے نہ تم کو بھول پائیں گے
گرا کر پردے پلکوں کے نمی خوردہ نگاہوں پر
تمہاری یاد میں کھو کر شب فرقت بتائیں گے
بہا لے جائے گا سیلاب گریہ خیمۂ جاں کو
طنابیں کھینچ بھی لیں تو اسے کب تک بچائیں گے
بے اندازہ ملے ہیں خوبیٔ تقدیر سے ہم کو
خدا معلوم یہ انبار غم کیسے اٹھائیں گے
نہیں ملتا کوئی معقول استدلال جینے کا
جہان فانیٔ بے رنگ قصداً چھوڑ جائیں گے
مہکتی شاخ سے ہوگی معطر پھر مشام جاں
جو گل اندام کو چشم تصور میں سجائیں گے
اکیلے آئے تھے ہم تو دیار عشق میں کامیؔ
نہ جانے کیوں یہ لگتا ہے اکیلے لوٹ جائیں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.