دیر و کعبہ کو رہ گزر سمجھے

قربان علی سالک بیگ

دیر و کعبہ کو رہ گزر سمجھے

قربان علی سالک بیگ

MORE BYقربان علی سالک بیگ

    دیر و کعبہ کو رہ گزر سمجھے

    دل کو جو کوئی تیرا گھر سمجھے

    اشک خونیں بہے تو ہم دل کو

    ہدف ناوک نظر سمجھے

    نالۂ غیر آتش افشاں ہے

    شب وصلت کی تم سحر سمجھے

    نہ اٹھا اپنے آستاں سے ہمیں

    ہم تو بیٹھے ہیں اپنا گھر سمجھے

    نامہ دے کر نظارہ ہے منظور

    ہم تقاضائے نامہ بر سمجھے

    غیر سے پوچھتے ہیں کوچۂ یار

    ایسے رہزن کو راہبر سمجھے

    وہ ستم کرنے آئے ہیں ایجاد

    اور ہم آہ کا اثر سمجھے

    صرف کرنا ہے عنصر آبی

    ہم ترا گریہ چشم تر سمجھے

    اس سے کیا مدعا کہوں سالکؔ

    صلح کی بات کو جو شر سمجھے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY