دم مرگ بالیں پر آیا تو ہوتا

امداد علی بحر

دم مرگ بالیں پر آیا تو ہوتا

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    دم مرگ بالیں پر آیا تو ہوتا

    مرے منہ میں پانی چوایا تو ہوتا

    یہ سچ ہے وفادار کوئی نہیں ہے

    کسی دن مجھے آزمایا تو ہوتا

    تسلی نہ دیتا تشفی نہ کرتا

    مرے رونے پر مسکرایا تو ہوتا

    مجھے اپنی فرقت سے مارا تو مارا

    دم نزع مکھڑا دکھایا تو ہوتا

    غلط ہے کہ مردہ نہیں زندہ ہوتا

    تو میرے جنازے پر آیا تو ہوتا

    وہیں چونک اٹھتا میں خواب لحد سے

    مرا شانہ تو نے ہلایا تو ہوتا

    ہوا عید کے دن میں قربان تجھ پر

    بلا کر گلے سے لگایا تو ہوتا

    مرے قتل پر تم نے بیڑا اٹھایا

    مرے ہاتھ کا پان کھایا تو ہوتا

    وہ سنتا نہ سنتا ہوس تو نہ رہتی

    مرا حال ہمدم سنایا تو ہوتا

    مسی پر بھی داغوں کا ثمرہ نہ پایا

    چراغ اک لحد پر جلایا تو ہوتا

    گلا ہے مجھے تم سے مرغان گلشن

    کبھی درد میرا بٹایا تو ہوتا

    کبھی میرے جانب سے پرواز کرتے

    کوئی حال پرسی کو آیا تو ہوتا

    نہیں یہ بھی شکوہ نہ آئے نہ آئے

    گلوں کو مرا غم سنایا تو ہوتا

    در و بام کا بحرؔ خواہاں نہیں میں

    مرے آشیانے میں سایا تو ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY