دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کر

شیخ علی بخش بیمار

دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کر

شیخ علی بخش بیمار

MORE BYشیخ علی بخش بیمار

    دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کر

    سخت حیراں ہوں میں اپنی سخت جانی دیکھ کر

    شام سے تا صبح فرقت صبح سے تا شام ہجر

    ہم چلے کیا کیا نہ لطف زندگانی دیکھ کر

    یوں تو لاکھوں غمزدہ ہوں گے مگر اے آسماں

    جب تجھے جانوں کہ لا دے میرا ثانی دیکھ کر

    اب تپ فرقت سے یہ کچھ ضعف طاری ہے کہ آہ

    دنگ رہ جاتی ہے ہم کو نا توانی دیکھ کر

    واسطے جس کے ہوئے بحر فنا کے آشنا

    وہ پسیجا بھی نہ اپنی جاں فشانی دیکھ کر

    باز آ بیمارؔ اس کے عشق سے جانے بھی دے

    ترس آتا ہے یہ تیری نوجوانی دیکھ کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY