در کھلا صبح کو پو پھٹتے ہی مے خانے کا

ریاضؔ خیرآبادی

در کھلا صبح کو پو پھٹتے ہی مے خانے کا

ریاضؔ خیرآبادی

MORE BYریاضؔ خیرآبادی

    در کھلا صبح کو پو پھٹتے ہی مے خانے کا

    عکس سورج ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کا

    حسن موجوں کا چھلکنا بھرے پیمانے کا

    رقص پریوں کا ہے عالم ہے پری خانے کا

    ہائے زنجیر شکن وہ کشش فصل بہار

    اور زنداں سے نکلنا ترے دیوانے کا

    صدقے اس سوز کے جو سوز ہو اس حسن کے ساتھ

    شعلہ گویا پر پرواز ہے پروانے کا

    ہوں وہاں غم ہے جہاں ہستئ موہوم مری

    دوسرا نام عدم ہے مرے ویرانے کا

    نہ بیاں ہو جو ملے صبح ازل شام ابد

    حشر ہے بیچ کا ٹکڑا مرے افسانے کا

    پردہ بھی بات بھی جلوہ بھی پس دامن برق

    شوخیاں ہیں کہ یہ انداز ہے شرمانے کا

    بال کے بدلے نظر آتے ہیں اس میں سو چاک

    عکس آئینۂ دل پر بھی پڑا شانے کا

    پیٹ میں خم کے ہے جو کچھ وہ بھرا ہے اس میں

    منہ نہ کھلوا ارے واعظ مرے پیمانے کا

    کیا تصور ہی سے اٹھ جاتے ہیں پردے دل کے

    دل بھی کیا نام ہے ان کے کسی کاشانے کا

    رکھتی ہے عالم نو شورش ہنگامۂ عشق

    حشر اک حرف غلط ہے مرے افسانے کا

    آپ کے ہار کی کلیوں سے یہ ملنے کا نہیں

    دل ہے مٹی کا نہ گھلنے کا نہ مرجھانے کا

    کھنچنے والی کی جھلک دیکھی ہے جب سے ساقی

    دیکھنا منہ مجھے انگور کے ہر دانے کا

    پھرتی ہے حشر کے دن آنکھ کے نیچے شب وصل

    ہائے انداز وہ اس زلف کے بل کھانے کا

    شمع کعبہ رہے محفوظ الٰہی تا حشر

    نام روشن ہے اک اجڑے ہوئے بت خانے کا

    نہ ہوا تھی نہ مری آہ عدو تھے وہ تھے

    حال شب کو نہ کھلا شمع کے بجھ جانے کا

    لوگ کہتے ہیں کہ ہے زاہد مرتاض ریاضؔ

    رند کہتے ہیں اسے چور ہے مے خانے کا

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY