درد کا کہسار کھینچتا ہوں

آزاد حسین آزاد

درد کا کہسار کھینچتا ہوں

آزاد حسین آزاد

MORE BYآزاد حسین آزاد

    درد کا کہسار کھینچتا ہوں

    سانس کب ہے غبار کھینچتا ہوں

    عشق ہے ہی نہیں یہ تہمت ہے

    دل نہیں ہے میں بار کھینچتا ہوں

    نبض ہے ڈوبنے بھی لگتی ہے

    سانس ہے زور دار کھینچتا ہوں

    کھینچتا ہوں اسے میں اپنی طرف

    اور بے اختیار کھینچتا ہوں

    تو کوئی ساربان کرتا ہے

    میں خود اپنی مہار کھینچتا ہوں

    شعر کہتا ہوں میں الگ ڈھب سے

    قافیہ جان دار کھینچتا ہوں

    کیمرے مطمئن نہیں کرتے

    عکس ہیں بار بار کھینچتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY