درد کا میرے یقیں آپ کریں یا نہ کریں

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

درد کا میرے یقیں آپ کریں یا نہ کریں

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

MORE BYوحشتؔ رضا علی کلکتوی

    درد کا میرے یقیں آپ کریں یا نہ کریں

    عرض اتنی ہے کہ اس راز کا چرچا نہ کریں

    لاکھ غافل سہی پر ایسے بھی ہم کور نہیں

    کہ چمن دیکھ کے ذکر چمن آرا نہ کریں

    عقل و دانش سے تو کچھ کام نہ نکلا اپنا

    کب تک آخر دل دیوانہ کا کہنا نہ کریں

    وہ نگاہیں عجب انداز سے ہیں عشوہ فروش

    غم پنہاں کو ہمارے کہیں رسوا نہ کریں

    تیرے آشفتہ سر ایسے بھی نہیں سودائی

    کہ دل و دیں کے لئے زلف کا سودا نہ کریں

    میں نے بیہودہ توقع کی سزا پائی ہے

    کچھ خیال آپ مری حسرت دل کا نہ کریں

    میرے ارمانوں کو کاش اتنی سمجھ ہو وحشتؔ

    کہ ان آنکھوں سے مروت کا تقاضا نہ کریں

    مآخذ :
    • کتاب : Noquush (Pg. B-336 E342)
    • مطبع : Nuqoosh Press Lahore (May June 1954)
    • اشاعت : May June 1954

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY