درد کو ضبط کی سرحد سے گزر جانے دو

ذاکر خان ذاکر

درد کو ضبط کی سرحد سے گزر جانے دو

ذاکر خان ذاکر

MORE BYذاکر خان ذاکر

    درد کو ضبط کی سرحد سے گزر جانے دو

    اب سمیٹو نہ ہمیں اور بکھر جانے دو

    ہم سے ہوگا نہ کبھی اپنی خودی کا سودا

    ہم اگر دل سے اترتے ہیں اتر جانے دو

    تم تعین نہ کرو اپنی حدوں کا ہرگز

    جب بھی جیسے بھی جہاں جائے نظر جانے دو

    اتنا کافی ہے کہ وہ ساتھ نہیں ہے میرے

    کیوں ہوا کیسے ہوا چاک جگر جانے دو

    دل جلاؤ کہ تخیل کا جہاں روشن ہو

    تیرگی ختم کرو رات سنور جانے دو

    عشق ثانی ہے تو پھر اس میں شکایت کیسی

    ہم نہ کہتے تھے کہ اک زخم ہے بھر جانے دو

    یار معمول پہ لوٹ آئیں گے کچھ صبر کرو

    اس فسوں گر کی نگاہوں کا اثر جانے دو

    شرط جینا ہے بھٹکنا تو بہانہ ہے فقط

    وہ جدھر جاتا ہے ہر شام و سحر جانے دو

    میں نے روکا تھا اسے اس کا حوالہ دے کر

    روٹھ کر پھر بھی وہ جاتا ہے اگر جانے دو

    خوش گماں ہے وہ بہت جیت پہ اپنی ذاکرؔ

    ہم بھی چل سکتے تھے اک چال مگر جانے دو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY