درد سے دل نے واسطہ رکھا

آتش اندوری

درد سے دل نے واسطہ رکھا

آتش اندوری

MORE BYآتش اندوری

    درد سے دل نے واسطہ رکھا

    وقت بدلے گا حوصلہ رکھا

    رو دئیے میرے حال پہ پنچھی

    چگنے جب صرف باجرا رکھا

    میں پرندہ بنا ہوں جب سے تو

    سرحدوں سے نہ واسطہ رکھا

    دھوکہ اکثر ملے ہے اپنوں سے

    اپنوں سے تھوڑا فاصلہ رکھا

    تاکہ نکلیں نہیں مرے آنسو

    درد سہنے کا سلسلہ رکھا

    مندروں مسجدوں میں ڈھونڈھے کون

    اس لیے دل میں اک خدا رکھا

    توڑ دیتے جو حوصلہ آتشؔ

    ان خیالوں سے فاصلہ رکھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY