دریا کا چڑھاؤ دیکھتا ہوں

جمیلؔ مظہری

دریا کا چڑھاؤ دیکھتا ہوں

جمیلؔ مظہری

MORE BY جمیلؔ مظہری

    دریا کا چڑھاؤ دیکھتا ہوں

    تنکوں کا بہاؤ دیکھتا ہوں

    تم دیکھو بلندی آسماں کی

    میں اس کا جھکاؤ دیکھتا ہوں

    کل پیش نظر تھی تیغ ابرو

    اب سینے کا گھاؤ دیکھتا ہوں

    وہ آئیں نہ آئیں کون جانے

    آئی ہوئی ناؤ دیکھتا ہوں

    سنتا ہوں کراہ لکڑیوں کی

    جلتے ہیں الاؤ دیکھتا ہوں

    آسان نہیں ہے دل کی چوری

    تم آنکھ چراؤ دیکھتا ہوں

    منجدھار میں ہوگی کوئی کشتی

    ساحل پہ جماؤ دیکھتا ہوں

    تم آگ میں میری جل رہی ہو

    میں دور سے تاؤ دیکھتا ہوں

    اپنے کو جمیلؔ بیچنا ہے

    بازار کا بھاؤ دیکھتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY