دریا میں ہے سراب عجب ابتلا میں ہوں

ابراہیم ہوش

دریا میں ہے سراب عجب ابتلا میں ہوں

ابراہیم ہوش

MORE BYابراہیم ہوش

    دریا میں ہے سراب عجب ابتلا میں ہوں

    میں بھی حسین ہی کی طرح کربلا میں ہوں

    ٹکتے نہیں کہیں بھی قدم آرزوؤں کے

    پھینکا ہے جب سے تیری زمیں نے خلا میں ہوں

    آواز کب سے دیتا تھا حرماں نصیب دل

    اب آئی ہے تو غرق نشاط بلا میں ہوں

    کیا فرض ہے کہ عیسیٰ و مریم دکھائی دے

    مصلوب درد چیخے کہ میں ابتلا میں ہوں

    ہر لحظہ انہدام کا ہے خوف مجھ کو ہوشؔ

    میں اس دیار شور و شر زلزلہ میں ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY