دشت در دشت پھرا کرتا ہوں پیاسا ہوں میں

علقمہ شبلی

دشت در دشت پھرا کرتا ہوں پیاسا ہوں میں

علقمہ شبلی

MORE BYعلقمہ شبلی

    دشت در دشت پھرا کرتا ہوں پیاسا ہوں میں

    اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ دریا ہوں میں

    تنگ صحرا نظر آیا ہے جو پھیلا ہوں میں

    ہو گئی ہے مری تصویر جو سمٹا ہوں میں

    جستجو جس کی سفینوں کو رہی ہے صدیوں

    دوستو میرے وہ بے نام جزیرہ ہوں میں

    کس لیے مجھ پہ ہے یہ سست روی کا الزام

    زندگی دیکھ لے خود تیرا سراپا ہوں میں

    آرزو میرے قدم کی تھی کبھی راہوں کو

    آج لیکن دل امکاں میں کھٹکتا ہوں میں

    پڑھ سکو گر تو کھلیں تم پہ رموز ہستی

    وقت کے ہاتھ میں اک ایسا صحیفہ ہوں میں

    انجمن ہوں میں کبھی ذات سے اپنی شبلیؔ

    اور محفل میں بھی رہ کر کبھی تنہا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY