دشت سے پتھر اٹھا کر شہر میں لائے ہو کیوں

اسرار اکبر آبادی

دشت سے پتھر اٹھا کر شہر میں لائے ہو کیوں

اسرار اکبر آبادی

MORE BYاسرار اکبر آبادی

    دشت سے پتھر اٹھا کر شہر میں لائے ہو کیوں

    یہ لہو مانگیں گے تم سے خود پہ اترائے ہو کیوں

    خشک ہے دل کا کنول سانسوں میں غم کی آگ ہے

    جب برسنا ہی نہیں ہے بادلوں چھائے ہو کیوں

    مے کے ساغر ہیں اگر غم کو مٹانے کا علاج

    اے نئے موسم کے پھولو پی کے مرجھائے ہو کیوں

    اب تو خاموشی تمہاری خار سی چبھنے لگی

    چپ ہی رہنا تھا بتاؤ پھر یہاں آئے ہو کیوں

    شب کی ماری بستیوں کے ہر در و دیوار پر

    دھوپ تو سورج کی ہے تم خود پہ اترائے ہو کیوں

    ہاتھ میں ہے ہاتھ موسم مست گل مہکے ہوئے

    دیکھنے پر میرے پھر تم مجھ سے شرمائے ہو کیوں

    یہ ہیں ایسی وادیاں دریا بھی ہیں جن کے سراب

    لوگ ہیں پیاسے یہاں اسرارؔ تم آئے ہو کیوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY