دست خرد سے پردہ کشائی نہ ہو سکی

تلوک چند محروم

دست خرد سے پردہ کشائی نہ ہو سکی

تلوک چند محروم

MORE BYتلوک چند محروم

    دست خرد سے پردہ کشائی نہ ہو سکی

    حسن ازل کی جلوہ نمائی نہ ہو سکی

    رنگ بہار دے نہ سکے خارزار کو

    دست جنوں میں آبلہ سائی نہ ہو سکی

    اے دل تجھے اجازت فریاد ہے مگر

    رسوائی ہے اگر شنوائی نہ ہو سکی

    مندر بھی صاف ہم نے کئے مسجدیں بھی پاک

    مشکل یہ ہے کہ دل کی صفائی نہ ہو سکی

    فکر معاش و عشق بتاں یاد رفتگاں

    ان مشکلوں سے عہد برآئی نہ ہو سکی

    غافل نہ تجھ سے اے غم عقبیٰ تھے ہم مگر

    دام غم جہاں سے رہائی نہ ہو سکی

    منکر ہزار بار خدا سے ہوا بشر

    اک بار بھی بشر سے خدائی نہ ہو سکی

    خود زندگی برائی نہیں ہے تو اور کیا

    محرومؔ جب کسی سے بھلائی نہ ہو سکی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY