دست ضروریات میں بٹتا چلا گیا

شوکت فہمی

دست ضروریات میں بٹتا چلا گیا

شوکت فہمی

MORE BYشوکت فہمی

    دست ضروریات میں بٹتا چلا گیا

    میں بے پناہ شخص تھا گھٹتا چلا گیا

    پیچھے ہٹا میں راستہ دینے کے واسطے

    پھر یوں ہوا کہ راہ سے ہٹتا چلا گیا

    عجلت تھی اس قدر کہ میں کچھ بھی پڑھے بغیر

    اوراق زندگی کے پلٹتا چلا گیا

    جتنی زیادہ آگہی بڑھتی گئی مری

    اتنا درون ذات سمٹتا چلا گیا

    کچھ دھوپ زندگی کی بھی بڑھتی چلی گئی

    اور کچھ خیال یار بھی چھٹتا چلا گیا

    اجڑے ہوئے مکان میں کل شب ترا خیال

    آسیب بن کے مجھ سے لپٹتا چلا گیا

    اس سے تعلقات بڑھانے کی چاہ میں

    فہمیؔ میں اپنے آپ سے کٹتا چلا گیا

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 01.08.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY