دست و پا میں مرے حلقے جو یہ زنجیر کے ہیں

ایاز احمد طالب

دست و پا میں مرے حلقے جو یہ زنجیر کے ہیں

ایاز احمد طالب

MORE BYایاز احمد طالب

    دست و پا میں مرے حلقے جو یہ زنجیر کے ہیں

    در حقیقت یہ کرشمے مری تقدیر کے ہیں

    قابل داد نہیں کیا وہ مصور لوگو

    شہر در شہر جو چرچے کسی تصویر کے ہیں

    تشنہ لب جو لب دریا پہ بھی ہیں رہتے ہوئے

    وہ ستائے ہوئے بگڑی ہوئی تقدیر کے ہیں

    حوصلہ فتح کا ضامن ہوا کرتا ہے مگر

    میرے دشمن ہیں کہ قائل مری شمشیر کے ہیں

    غیر دانستہ نہیں ہیں مرے افسانے میں

    وہ کئی لفظ جو تشنہ مری تفسیر کے ہیں

    خوش اگر اپنی خطاؤں پہ ہو تم تو ہم بھی

    ماننے والے ابھی عشق کی تاثیر کے ہیں

    اس نے سونپی تھی جو بیٹوں کو وراثت میں کبھی

    آج افسوں کہ ٹکڑے اسی جاگیر کے ہے

    یہ ستارے نہیں طالبؔ کہ یہ ٹوٹے ہوئے خواب

    کسی لیلیٰ کسی شیریں کے کسی ہیر کے ہیں

    مآخذ
    • کتاب : Almaas (Pg. 86)
    • Author : Ayaz Ahmad Talib
    • مطبع : Ayaz Ahmad Talib (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY