دستک ہوئی تو سر پہ دوپٹا سنبھل گیا

شہناز پروین سحر

دستک ہوئی تو سر پہ دوپٹا سنبھل گیا

شہناز پروین سحر

MORE BYشہناز پروین سحر

    دستک ہوئی تو سر پہ دوپٹا سنبھل گیا

    چھوٹا سا اک چراغ مرے دل میں جل گیا

    جاتے ہوئے رکا ہی نہیں ایک پل بھی وہ

    سارے ستارے پاؤں کے نیچے کچل گیا

    تانبے کی ٹکڑیاں سی بکھرتی چلی گئیں

    پھر دیکھتے ہی دیکھتے سورج پگھل گیا

    بارش کی بوند بوند کو ترسا ہوا تھا شہر

    آنچل ہوا کا تھام کے بادل نکل گیا

    روٹی توے پہ سہمی ہوئی دیکھتی رہی

    چولہا بھڑک اٹھا تھا مرا ہاتھ جل گیا

    حیرت ہنوز ٹوٹے ہوئے آئنے میں تھی

    مجھ پر تری کمان سے کیوں تیر چل گیا

    بیتے ہوئے دنوں کا دھواں پھیلتا رہا

    یوں ہی کنار چشم جو آنسو پھسل گیا

    مأخذ :
    • کتاب : Word File Mail By Salim Saleem

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY