دور آغاز جفا دل کا سہارا نکلا

فراق گورکھپوری

دور آغاز جفا دل کا سہارا نکلا

فراق گورکھپوری

MORE BYفراق گورکھپوری

    دور آغاز جفا دل کا سہارا نکلا

    حوصلہ کچھ نہ ہمارا نہ تمہارا نکلا

    تیرا نام آتے ہی سکتے کا تھا عالم مجھ پر

    جانے کس طرح یہ مذکور دوبارا نکلا

    ہوش جاتا ہے جگر جاتا ہے دل جاتا ہے

    پردے ہی پردے میں کیا تیرا اشارا نکلا

    ہے ترے کشف و کرامات کی دنیا قائل

    تجھ سے اے دل نہ مگر کام ہمارا نکلا

    کتنے سفاک سر قتل گہہ عالم تھے

    لاکھوں میں بس وہی اللہ کا پیارا نکلا

    عبرت انگیز ہے کیا اس کی جواں مرگی بھی

    ہائے وہ دل جو ہمارا نہ تمہارا نکلا

    عشق کی لو سے فرشتوں کے بھی پر جلتے ہیں

    رشک خورشید قیامت یہ شرارا نکلا

    سر بہ سر بے سر و ساماں جسے سمجھے تھے وہ دل

    رشک جمشید و کے و خسرو و دارا نکلا

    رونے والے ہوئے چپ ہجر کی دنیا بدلی

    شمع بے نور ہوئی صبح کا تارا نکلا

    انگلیاں اٹھیں فراقؔ وطن آوارہ پر

    آج جس سمت سے وہ درد کا مارا نکلا

    RECITATIONS

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    دور آغاز جفا دل کا سہارا نکلا خالد مبشر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY