دورا ہے جب سے بزم میں تیری شراب کا

شیخ ظہور الدین حاتم

دورا ہے جب سے بزم میں تیری شراب کا

شیخ ظہور الدین حاتم

MORE BYشیخ ظہور الدین حاتم

    دورا ہے جب سے بزم میں تیری شراب کا

    بازار گرم ہے مرے دل کے کباب کا

    خوباں کو کس طرح سے لگا لے ہے بات میں

    بندا ہوں اپنی طبع ظرافت مآب کا

    جو نامہ بر گیا نہ پھرا ایک اب تلک

    اے دل تو انتظار عبث ہے جواب کا

    حسرت یہ ہے کہ رات کو آئے وہ ماہرو

    دولت سے اس کی دید کروں ماہتاب کا

    الطاف میں بھی اس کے اذیت ہے سو طرح

    لاؤں کہاں سے حوصلہ اس کے عتاب کا

    رخسار کے عرق کا ترے بھاؤ دیکھ کر

    پانی کے مول نرخ ہوا ہے گلاب کا

    حاتمؔ یہی ہمیشہ زمانے کی چال ہے

    شکوہ بجا نہیں ہے تجھے انقلاب کا

    مأخذ :
    • کتاب : Diwan-e-Zaada (Pg. 118)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY