دیار عشق کی شمعیں جلا تو سکتے ہیں

اسعد بدایونی

دیار عشق کی شمعیں جلا تو سکتے ہیں

اسعد بدایونی

MORE BY اسعد بدایونی

    دیار عشق کی شمعیں جلا تو سکتے ہیں

    خوشی ملے نہ ملے مسکرا تو سکتے ہیں

    ہمیشہ وصل میسر ہو یہ ضروری نہیں

    دو ایک دن کو ترے پاس آ تو سکتے ہیں

    جو راز عشق ہے ان کو چھپائیں گے لیکن

    جو داغ عشق ہیں سب کو دکھا تو سکتے ہیں

    ہم امتحان میں ناکام ہوں یہ رنج نہیں

    اسی میں خوش ہیں کہ وہ آزما تو سکتے ہیں

    نسیم صبح کے جھونکے ہیں خوش گوار مگر

    کبھی کبھی یہ دلوں کو دکھا تو سکتے ہیں

    یہی بہت ہے کہ اس خار زار دنیا میں

    تجھے ہم اپنے گلے سے لگا تو سکتے ہیں

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Asad Badayuni (Pg. 442)
    • Author : Asad Badayuni
    • مطبع : National Council for Promotion of Urdu language-NCPUL (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY