دیار عشق میں آتے کبھو رتوں کے لیے

منظر نقوی

دیار عشق میں آتے کبھو رتوں کے لیے

منظر نقوی

MORE BYمنظر نقوی

    دیار عشق میں آتے کبھو رتوں کے لیے

    بھٹکتے پھرتے ہو کیوں تم مہورتوں کے لیے

    نہ جانے کونسے لمحوں کے انتظار میں ہو

    ذرا بھی وقت نہیں ہے کدورتوں کے لیے

    کسی کسی کو ہے معلوم درد اندر کا

    کہ ہم تو ہنستے رہے خوب صورتوں کے لیے

    بہت ہیں چاہنے والے گھمنڈ رکھتے ہو

    ہمیں بھی چاہا تھا سب نے ضرورتوں کے لیے

    ہمارے چہرے پہ کچھ خال نقش ہیں منظرؔ

    بہت ضروری ہیں آیات صورتوں کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY