دے رہا ہے ثمر اداسی کا

شاہدہ مجید

دے رہا ہے ثمر اداسی کا

شاہدہ مجید

MORE BYشاہدہ مجید

    دے رہا ہے ثمر اداسی کا

    میرے دل میں شجر اداسی کا

    پورے تن کو بنا کے مٹی سے

    دل بنایا مگر اداسی کا

    مجھ سے اک بار تو سبب تو پوچھ

    اے مرے بے خبر اداسی کا

    تو مداوا نہ کر سکے گا کبھی

    اے مرے چارہ گر اداسی کا

    آنکھ ویراں ہے ذہن گم صم ہے

    اور دل ہے نگر اداسی کا

    میں نے دیکھا اداس نظروں سے

    موسموں پر اثر اداسی کا

    شاعری بے سبب نہیں اتری

    یہ بھی ہے اک ثمر اداسی کا

    کیف آور تھا ابتدا میں عشق

    اور باقی سفر اداسی کا

    پہلے تم تھے مکیں مگر اب تو

    دل ہے مدت سے گھر اداسی کا

    کائی جمنے لگی ہے منظر پر

    یہ ہوا ہے اثر اداسی کا

    ہجر کی شب کا چاند ایسا تھا

    جیسے بو نامہ بر اداسی کا

    آنکھ سے اڑ گیا ہے طائر نوم

    خواب میں تھا گزر اداسی کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY