دے رہے ہیں جس کو توپوں کی سلامی آدمی

آفتاب حسین

دے رہے ہیں جس کو توپوں کی سلامی آدمی

آفتاب حسین

MORE BYآفتاب حسین

    دے رہے ہیں جس کو توپوں کی سلامی آدمی

    کیا کہوں تم سے کہ ہے کتنا حرامی آدمی

    بھیڑ چھٹ جائے گی تب اس کی سمجھ میں آئے گا

    ایک اکیلا آدمی ہے اژدہامی آدمی

    کیا دکھاتے ہو میاں، پرچہ ہمیں اخبار کا

    ہم نے دیکھے ہیں بہت نامی گرامی آدمی

    پاؤں میں جوتا نہیں ہے، پیٹ میں روٹی نہیں

    لے کے کیا چاٹے گا خالی نیک نامی آدمی

    اٹھ کے جا بیٹھا وہی اشرافیہ کی گود میں

    ہم غریبوں نے جسے سمجھا عوامی آدمی

    قیس صاحب کس لیے بھٹکیں گے نجد شوق میں

    مل ہی جائے گا کوئی ہم سا مقامی آدمی

    دل کہ ہے شیرازۂ ہستی ہوا کی زد پہ ہے

    آدمی، اے آدمی، اے انتظامی آدمی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY