دیکھ کر اٹھتا ہوا شوق کا سر یعنی تو

نبیل احمد نبیل

دیکھ کر اٹھتا ہوا شوق کا سر یعنی تو

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    دیکھ کر اٹھتا ہوا شوق کا سر یعنی تو

    کاٹ ڈالے گا مرا دست ہنر یعنی تو

    میری تقدیر میں لکھے گا اندھیروں کا سکوت

    روند ڈالے گا مری تازہ سحر یعنی تو

    بس یہی ہے مرے دامان سفر میں اب تو

    میری منزل ہے مری راہ گزر یعنی تو

    جب بھی آئے گا سوا نیزے پہ خورشید غضب

    پھولنے پھلنے نہیں دے گا شجر یعنی تو

    مجھ کو معلوم ہے اے دوست اٹھا لیتا ہے

    میرے حصے کے سبھی برگ و ثمر یعنی تو

    تیرے تیور یہ بتاتے ہیں اے جانے والے

    لوٹ کے اب نہ کبھی آئے گا گھر یعنی تو

    یہ گزارش ہے مری تجھ سے گزارش میری

    میری نس نس میں اتر تو ہی اتر یعنی تو

    خوشبوئے گل کی طرح رنگ شفق کی صورت

    دل کے آنگن میں بکھر اور بکھر یعنی تو

    نکھرا نکھرا سا ہے امید کا موسم یوں بھی

    شاخ امید پہ کچھ اور سنور اور سنور یعنی تو

    راہ الفت میں مجھے تیری قسم جان نبیلؔ

    ہے مرے پیش نظر پیش نظر یعنی تو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY