دیکھیے اہل محبت ہمیں کیا دیتے ہیں

تابش دہلوی

دیکھیے اہل محبت ہمیں کیا دیتے ہیں

تابش دہلوی

MORE BY تابش دہلوی

    دیکھیے اہل محبت ہمیں کیا دیتے ہیں

    کوچۂ یار میں ہم کب سے صدا دیتے ہیں

    روز خوشبو تری لاتے ہیں صبا کے جھونکے

    اہل گلشن مری وحشت کو ہوا دیتے ہیں

    منزل شمع تک آسان رسائی ہو جائے

    اس لیے خاک پتنگوں کی اڑا دیتے ہیں

    سوئے صحرا بھی ذرا اہل خرد ہو آؤ

    کچھ بہاروں کا پتا آبلہ پا دیتے ہیں

    مجھ کو احباب کے الطاف و کرم نے مارا

    لوگ اب زہر کے بدلے بھی دوا دیتے ہیں

    ساتھ چلتا ہے کوئی اور بھی سوئے منزل

    مجھ کو دھوکا مرے نقش کف پا دیتے ہیں

    زندگی مرگ مسلسل ہے مگر اے تابشؔ

    ہائے وہ لوگ جو جینے کی دعا دیتے ہیں

    مآخذ:

    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 23.03.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY