دیکھیے اس کو تو ہر بات گل تر کی طرح

خالد یوسف

دیکھیے اس کو تو ہر بات گل تر کی طرح

خالد یوسف

MORE BYخالد یوسف

    دیکھیے اس کو تو ہر بات گل تر کی طرح

    بات کیجے تو وہی شخص ہے پتھر کی طرح

    عقل حیراں ہے کن الفاظ میں تعریف کروں

    حسن اور وہ بھی چھلکتے ہوئے ساغر کی طرح

    برق گفتار سہی شعلہ وہ تلوار سہی

    ہم مگر ظرف بھی رکھتے ہیں سمندر کی طرح

    آزماؤ گے تو ہم جاں سے گزر جائیں گے

    کاغذی شیر نہیں ہیں کسی افسر کی طرح

    دل کو بہلاتے ہیں افسانۂ آزادی سے

    ہم نے اک طوق پہن رکھا ہے زیور کی طرح

    راج کرتے ہیں وہی لوگ دلوں پر خالدؔ

    بخش دیتے ہیں جو دشمن کو سکندر کی طرح

    مآخذ:

    • کتاب : Lab-e-Saher (Pg. 95)
    • Author : Khalid Yusuf
    • مطبع : Institute of Third World Art & Literature (1987)
    • اشاعت : 1987

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY