دیکھنے والوں کو کچھ اور دکھایا گیا ہے

الیاس بابر اعوان

دیکھنے والوں کو کچھ اور دکھایا گیا ہے

الیاس بابر اعوان

MORE BYالیاس بابر اعوان

    دیکھنے والوں کو کچھ اور دکھایا گیا ہے

    اصل جو مال تھا وہ ایسے چھپایا گیا ہے

    جانے کے واسطے دیوار بنائی گئی ہے

    روکنے کے لیے دروازہ بنایا گیا ہے

    اپنی آنکھوں کو بھی پہچان نہیں پاتا ہوں

    ایک مدت سے یہاں کوئی نہ آیا گیا ہے

    سیدھے چلتے ہیں تو دیوار سے ٹکراتے ہیں

    کامیابی کا سبق ایسا پڑھایا گیا ہے

    دل کے اک داغ کو کچھ ایسے سجا اے فن کار

    لوگ سمجھیں کہ یہاں پھول بنایا گیا ہے

    یہ جو سب نظریں جھکائے ہوئے آتے ہیں نظر

    لوگ اندھے نہیں آئینہ دکھایا گیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے