دیکھو تو کس ادا سے رخ پر ہیں ڈالی زلفیں

آفتاب شاہ عالم ثانی

دیکھو تو کس ادا سے رخ پر ہیں ڈالی زلفیں

آفتاب شاہ عالم ثانی

MORE BYآفتاب شاہ عالم ثانی

    دیکھو تو کس ادا سے رخ پر ہیں ڈالی زلفیں

    جوں مار ڈستی ہیں دل دلبر کی کالی زلفیں

    چاہے ہیں جس نہ تس کو باندھیں گرہ میں اپنی

    دل لینے کو بلا ہیں یہ پیچ والی زلفیں

    مثل سلاسل اس میں عقدے ہزارہا ہیں

    ٹک پیچ و تاب سے میں دیکھیں نہ خالی زلفیں

    مار سیہ جدا کب رہتا ہے گنج زر سے

    ہوتی نہیں ہیں اس کے رخ سے نرالی زلفیں

    تھی رات جو یکایک دن دیکھنے لگے سب

    جب آفتابؔ اس نے رخ سے اٹھا لی زلفیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY