دیکھوں تو مرے دل میں اترتا ہے زیادہ

جعفر شیرازی

دیکھوں تو مرے دل میں اترتا ہے زیادہ

جعفر شیرازی

MORE BYجعفر شیرازی

    دیکھوں تو مرے دل میں اترتا ہے زیادہ

    شعلہ کہ تہہ آب نکھرتا ہے زیادہ

    کیا جانیے کیا بات ہے اب دشت کی نسبت

    دل خامشیٔ شہر سے ڈرتا ہے زیادہ

    اندر کا وہی روگ اسے بھی ہے مجھے بھی

    بنتا ہے زیادہ وہ سنورتا ہے زیادہ

    جو آنکھ کے جلتے ہوئے صحرا سے پرے ہے

    بادل اسی رستے سے گزرتا ہے زیادہ

    رخ شہر کی جانب ہوا جنگل کی ہوا کا

    اور شور مرے دل میں ابھرتا ہے زیادہ

    جعفرؔ یہ لگا زخم محبت بھی عجب ہے

    بڑھتا ہے زیادہ جو نہ بھرتا ہے زیادہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY