دیکھوں وہ کرتی ہے اب کے علم آرائی کہ میں

حسن عزیز

دیکھوں وہ کرتی ہے اب کے علم آرائی کہ میں

حسن عزیز

MORE BYحسن عزیز

    دیکھوں وہ کرتی ہے اب کے علم آرائی کہ میں

    ہارتا کون ہے اس جنگ میں تنہائی کہ میں

    بھول بیٹھا ہوں کہ افلاک بھی کچھ ہوتے ہیں

    اپنی وسعت میں ملی مجھ کو وہ گہرائی کہ میں

    آج تک اپنی رہائی کی دعا کرتا ہوں

    اب کے زنجیر ہواؤں نے وہ پہنائی کہ میں

    خود کو پانے لگا تنہائی کی تاریکی میں

    اس قدر شوخ ہوا رنگ شناسائی کہ میں

    رنگ تعبیر اندھیروں سے اٹھا لیتا ہوں

    کون خوابوں کو عطا کرتا ہے بینائی کہ میں

    گوشۂ دشت میں یوں ہی تو نہیں بیٹھا ہوں

    سفر آسان کرے گا کوئی سودائی کہ میں

    اس کی ہر بات پہ ایمان نہیں رکھتا ہوں

    کچھ تو تحریر پہ ہو حاشیہ آرائی کہ میں

    رکھنے والا ہوں قدم قریۂ شہرت میں حسنؔ

    حملہ آور نہ کہیں ہو سگ رسوائی کہ میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY