ڈھالتا ہوں شعر میں تنہائیوں کو

خلیل مامون

ڈھالتا ہوں شعر میں تنہائیوں کو

خلیل مامون

MORE BYخلیل مامون

    ڈھالتا ہوں شعر میں تنہائیوں کو

    ڈھونڈھتا ہوں اس میں پھر پرچھائیوں کو

    کھوکھلی آنکھوں سے مجھ کو گھورتی ہیں

    دیکھ کر ڈرتا ہوں میں پہنائیوں کو

    وہ برائی سب سے میری کر رہے ہیں

    کیوں نہیں کرتے بیاں اچھائیوں کو

    شہر میں تو قتل سب کا ہو چکا ہے

    بھیج دو اب دشت میں بلوائیوں کو

    دل کی بھٹی یہ نہ ہوں تو جل ہی جائے

    روکو مت تم اشک کی پروائیوں کو

    دے رہی ہیں اک سے اک نظارہ مامونؔ

    کوستے ہو کیوں تم ان تنہائیوں کو

    مآخذ:

    • کتاب : Sanson Ke Paar (Pg. 43)
    • Author : Khalil Mamoon
    • مطبع : Educational Publishing House, Delhi (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY