دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا

کلیم عاجز

دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا

کلیم عاجز

MORE BYکلیم عاجز

    دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا

    اٹھا نہیں ہے ابھی اعتبار نالوں کا

    یہ مختصر سی ہے روداد صبح مے خانہ

    زمیں پہ ڈھیر تھا ٹوٹے ہوئے پیالوں کا

    یہ خوف ہے کہ صبا لڑکھڑا کے گر نہ پڑے

    پیام لے کے چلی ہے شکستہ حالوں کا

    نہ آئیں اہل خرد وادئ جنوں کی طرف

    یہاں گزر نہیں دامن بچانے والوں کا

    لپٹ لپٹ کے گلے مل رہے تھے خنجر سے

    بڑے غضب کا کلیجہ تھا مرنے والوں کا

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY