دھڑکن میں نہاں عشق کے آزار سے پہلے

اسرار اکبر آبادی

دھڑکن میں نہاں عشق کے آزار سے پہلے

اسرار اکبر آبادی

MORE BYاسرار اکبر آبادی

    دھڑکن میں نہاں عشق کے آزار سے پہلے

    اک اور حسیں غم ہے غم یار سے پہلے

    فطرت کی تمنا کا جو درپن ہیں وہ نغمے

    گاتی ہیں ہوائیں دل فنکار سے پہلے

    موسم نے تو بادل کے ابھی باندھے ہیں گھنگھرو

    دل جھوم اٹھا ہے مرا جھنکار سے پہلے

    ہم اپنے خیالوں میں تھے کچھ بھی نہیں سمجھے

    موجوں میں تو ہلچل سی تھی منجدھار سے پہلے

    سوچا ہی تھا سجدے میں جھکیں خود مری آنکھیں

    عرفان خدا ہو گیا دیدار سے پہلے

    گر آپ کو تاریخ سمجھنی ہے ہماری

    شاخ گل تر دیکھیے تلوار سے پہلے

    بادل بھی بنانے کا ہنر سیکھ لو اسرارؔ

    صحرا بھی ملے گا رہ دل دار سے پہلے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے