ڈھل گئی ہستئ دل یوں تری رعنائی میں

رئیس امروہوی

ڈھل گئی ہستئ دل یوں تری رعنائی میں

رئیس امروہوی

MORE BYرئیس امروہوی

    ڈھل گئی ہستئ دل یوں تری رعنائی میں

    مادہ جیسے نکھر جائے توانائی میں

    پہلے منزل پس منزل پس منزل اور پھر

    راستے ڈوب گئے عالم تنہائی میں

    گاہے گاہے کوئی جگنو سا چمک اٹھتا ہے

    میرے ظلمت کدۂ انجمن آرائی میں

    ڈھونڈھتا پھرتا ہوں خود اپنی بصارت کی حدود

    کھو گئی ہیں مری نظریں مری بینائی میں

    ان سے محفل میں ملاقات بھی کم تھی نہ مگر

    اف وہ آداب جو برتے گئے تنہائی میں

    یوں لگا جیسے کہ بل کھا کے دھنک ٹوٹ گئی

    اس نے وقفہ جو لیا ناز سے انگڑائی میں

    کس نے دیکھے ہیں تری روح کے رستے ہوئے زخم

    کون اترا ہے ترے قلب کی گہرائی میں

    مآخذ
    • کتاب : Karwaan-e-Ghazal (Pg. 159)
    • Author : Farooq Argali
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY