دھرتی کی زباں سوکھ گئی زرد ہوئی گھاس

عارج میر

دھرتی کی زباں سوکھ گئی زرد ہوئی گھاس

عارج میر

MORE BYعارج میر

    دھرتی کی زباں سوکھ گئی زرد ہوئی گھاس

    آکاش سے امسال اترتی ہے فقط پیاس

    آباد ہوئی شام کی رونق مرے گھر میں

    سڑکوں پہ بھٹکنا مجھے کیوں آئے گا اب راس

    ہاتھوں میں ہے فرصت کہ گتھا زیست کا لچھا

    یاروں کا سر شام ہوا لان پہ اجلاس

    اب جاؤں کہاں چھت سے ٹپکتی ہیں بلائیں

    اب کس کا بھروسا ہوا گھر گھر سے نہیں آس

    منظر ہیں سبھی میرے دل بینا پہ روشن

    غربت میں مرا شہر بھی ہوتا ہے مرے پاس

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY