دھواں اڑاتے ہوئے دن کو رات کرتے ہوئے

خورشید طلب

دھواں اڑاتے ہوئے دن کو رات کرتے ہوئے

خورشید طلب

MORE BYخورشید طلب

    دھواں اڑاتے ہوئے دن کو رات کرتے ہوئے

    ملنگ آگ سے تطہیر ذات کرتے ہوئے

    کہا تو تھا یہ امانت سنبھال کر رکھنا

    ہماری نذر وہ کل کائنات کرتے ہوئے

    میں ایک جنگ خود اپنے خلاف لڑتا ہوا

    تمام عضو بدن مجھ سے گھات کرتے ہوئے

    کہ ہم بنے ہی نہ تھے ایک دوسرے کے لیے

    اب اس یقین کو جینا حیات کرتے ہوئے

    ہر ایک قید سے آزاد بندشوں سے پرے

    حسین لوگ حسیں واردات کرتے ہوئے

    اگرچہ کام تھا مشکل مگر مزہ آیا

    کشید زہر سے آب حیات کرتے ہوئے

    RECITATIONS

    خورشید طلب

    خورشید طلب

    خورشید طلب

    دھواں اڑاتے ہوئے دن کو رات کرتے ہوئے خورشید طلب

    مآخذ :
    • کتاب : Jahaan Gard (Pg. 55)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY