دھواں اڑاتی ہوئی دھیمی دھیمی بارش ہے

یاسمین سحر

دھواں اڑاتی ہوئی دھیمی دھیمی بارش ہے

یاسمین سحر

MORE BYیاسمین سحر

    دھواں اڑاتی ہوئی دھیمی دھیمی بارش ہے

    ہوا کی اندھی سواری پہ اندھی بارش ہے

    ہمارے گاؤں کے رستوں کی کچی مٹی پر

    پھسل رہے ہیں قدم کتنی گندی بارش ہے

    ذرا سی کھول کے کھڑکی نظر تو دوڑاؤ

    دکھائی دیتی نہیں اچھی خاصی بارش ہے

    نکلتے وقت اٹھائی نہیں گئی چھتری

    مری سہیلی مجھے کہہ رہی تھی بارش ہے

    ہمارے آنے میں تاخیر ہو بھی سکتی ہے

    یہ دیکھ کر یہی لگتا ہے جتنی بارش ہے

    مذاکرات زمیں کر رہی ہے دھوپ کے ساتھ

    کہیں پہ دیکھی سنی تم نے اتنی بارش ہے

    تمام سبز رتیں آ کے کر رہی ہیں سلام

    ہمارے شہر میں موسم کی پہلی بارش ہے

    ٹھٹھرتے پانی میں سانسوں کا نم ملاتے ہوئے

    ندی میں چاند کے ہم رہ نہاتی بارش ہے

    نمی اسی کی ملی ہے مہکتے پھولوں کو

    کرن کرن میں گھلی جو گلابی بارش ہے

    میں فلم کے کسی منظر پہ بات کر رہی ہوں

    دکھائی جا رہی جس میں برستی بارش ہے

    تمام خواب مرے مل گئے ہیں مٹی میں

    تمام شب مری آنکھوں میں جاگی بارش ہے

    ہوا کی شہہ پہ ہی پھرتی ہے دندناتی ہوئی

    ہمارے چاروں طرف سر پھری سی بارش ہے

    میں گاڑی روک کے سیلفی بنا رہی ہوں سحرؔ

    مگر ابھی بھی یہاں ہلکی ہلکی بارش ہے

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY