دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار

محمد رفیع سودا

دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار

محمد رفیع سودا

MORE BYمحمد رفیع سودا

    دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار

    دیکھیے کیا کچھ ہمارے سر پہ لاتی ہے بہار

    شاید عزم یار کی گلشن میں پہنچی ہے خبر

    گل کے پیراہن میں پھولی نئیں سماتی ہے بہار

    دیکھنے دے باغباں اب گلستاں اپنا مجھے

    حلقۂ زنجیر میں مہماں بلاتی ہے بہار

    شور یہ غنچوں کے واشد کا نہیں اے عندلیب

    اب چمن میں طمطراق اپنا دکھاتی ہے بہار

    کیوں پھنسا گلشن میں یوں جا کر عبث سودا تو اب

    میں نہ کہتا تھا تجھے وہ دیکھ آتی ہے بہار

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY