دھوم تھی اپنی پارسائی کی

الطاف حسین حالی

دھوم تھی اپنی پارسائی کی

الطاف حسین حالی

MORE BYالطاف حسین حالی

    دھوم تھی اپنی پارسائی کی

    کی بھی اور کس سے آشنائی کی

    کیوں بڑھاتے ہو اختلاط بہت

    ہم کو طاقت نہیں جدائی کی

    منہ کہاں تک چھپاؤ گے ہم سے

    تم کو عادت ہے خود نمائی کی

    لاگ میں ہیں لگاؤ کی باتیں

    صلح میں چھیڑ ہے لڑائی کی

    ملتے غیروں سے ہو ملو لیکن

    ہم سے باتیں کرو صفائی کی

    دل رہا پائے بند الفت دام

    تھی عبث آرزو رہائی کی

    دل بھی پہلو میں ہو تو یاں کس سے

    رکھئے امید دل ربائی کی

    شہر و دریا سے باغ و صحرا سے

    بو نہیں آتی آشنائی کی

    نہ ملا کوئی غارت ایماں

    رہ گئی شرم پارسائی کی

    بخت ہم داستانی شیدا

    تو نے آخر کو نارسائی کی

    صحبت گاہ گاہی رشکی

    تو نے بھی ہم سے بے وفائی کی

    موت کی طرح جس سے ڈرتے تھے

    ساعت آ پہنچی اس جدائی کی

    زندہ پھرنے کی ہے ہوس حالیؔ

    انتہا ہے یہ بے حیائی کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے