ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود کو میں کہاں جا نکلا

سرور عالم راز

ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود کو میں کہاں جا نکلا

سرور عالم راز

MORE BYسرور عالم راز

    ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود کو میں کہاں جا نکلا

    ایک پردہ جو اٹھا دوسرا پردہ نکلا

    منظر زیست سراسر تہ و بالا نکلا

    غور سے دیکھا تو ہر شخص تماشا نکلا

    ایک ہی رنگ کا غم خانۂ دنیا نکلا

    غم جاناں بھی غم زیست کا سایا نکلا

    اس رہ زیست کو ہم اجنبی سمجھے تھے مگر

    جو بھی پتھر ملا برسوں کا شناسا نکلا

    آرزو حسرت اور امید شکایت آنسو

    اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا

    گھر سے نکلے تھے کہ آئینہ دکھائیں سب کو

    لیکن ہر عکس میں اپنا ہی سراپا نکلا

    کیوں نہ ہم بھی کریں اس نقش کف پا کی تلاش

    شعلۂ طور بھی تو ایک بہانا نکلا

    جی میں تھا بیٹھ کے کچھ اپنی کہیں گے سرورؔ

    تو بھی کم بخت زمانے کا ستایا نکلا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY