دھوپ آتی نہیں رخ اپنا بدل کر دیکھیں

انجم عرفانی

دھوپ آتی نہیں رخ اپنا بدل کر دیکھیں

انجم عرفانی

MORE BYانجم عرفانی

    دھوپ آتی نہیں رخ اپنا بدل کر دیکھیں

    چڑھتے سورج کی طرف ہم بھی تو چل کر دیکھیں

    بات کچھ ہوگی یقیناً جو یہ ہوتے ہیں نثار

    ہم بھی اک روز کسی شمع پہ جل کر دیکھیں

    صاحب جبہ و دستار سے کہہ دے کوئی

    اس بلندی پہ وہ دیکھیں تو سنبھل کر دیکھیں

    کیا عجب ہے کہ یہ مٹھی میں ہماری آ جائے

    آسماں کی طرف اک بار اچھل کر دیکھیں

    داغ دامن پہ کسی کے نہ کوئی ہاتھ ہی تر

    کیوں نہ چہرے پہ لہو اپنا ہی مل کر دیکھیں

    کس طرح سمت مخالف میں سفر کرتے ہیں ہم

    بہتے دھارے سے کبھی آپ نکل کر دیکھیں

    خاک میں مل کے فنا ہوں گے جو موتی ہیں یہاں

    جب بھی جی چاہے یہ آنکھوں سے ابل کر دیکھیں

    یک بیک جاں سے گزرنا تو ہے آساں انجمؔ

    قطرہ قطرہ کئی قسطوں میں پگھل کر دیکھیں

    مأخذ :
    • کتاب : libaas-e-zakhm (Pg. 93)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY