دھوپ جب ڈھل گئی تو سایہ نہیں

آفتاب حسین

دھوپ جب ڈھل گئی تو سایہ نہیں

آفتاب حسین

MORE BYآفتاب حسین

    دھوپ جب ڈھل گئی تو سایہ نہیں

    یہ تعلق تو کوئی رشتہ نہیں

    لوگ کس کس طرح سے زندہ ہیں

    ہمیں مرنے کا بھی سلیقہ نہیں

    سوچیے تو ہزار پہلو ہیں

    دیکھیے بات اتنی سادہ نہیں

    خواب بھی اس طرف نہیں آتے

    اس مکاں میں کوئی دریچہ نہیں

    چلو مر کر کہیں ٹھکانے لگیں

    ہم کہ جن کا کوئی ٹھکانا نہیں

    منزلیں بھی نہیں مقدر میں

    اور پلٹنا ہمیں گوارا نہیں

    دوسروں سے بھی ربط ضبط رکھیں

    زندگی ہے کوئی جزیرہ نہیں

    کب بھٹک جائے آفتابؔ حسین

    آدمی کا کوئی بھروسہ نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY