دھوپ میں سایا بنے تنہا کھڑے ہوتے ہیں

اظہر فراغ

دھوپ میں سایا بنے تنہا کھڑے ہوتے ہیں

اظہر فراغ

MORE BYاظہر فراغ

    دھوپ میں سایا بنے تنہا کھڑے ہوتے ہیں

    بڑے لوگوں کے خسارے بھی بڑے ہوتے ہیں

    ایک ہی وقت میں پیاسے بھی ہیں سیراب بھی ہیں

    ہم جو صحراؤں کی مٹی کے گھڑے ہوتے ہیں

    آنکھ کھلتے ہی جبیں چومنے آ جاتے ہیں

    ہم اگر خواب میں بھی تم سے لڑے ہوتے ہیں

    یہ جو رہتے ہیں بہت موج میں شب بھر ہم لوگ

    صبح ہوتے ہی کنارے پہ پڑے ہوتے ہیں

    ہجر دیوار کا آزار تو ہے ہی لیکن

    اس کے اوپر بھی کئی کانچ جڑے ہوتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY