دھوپ نکلی دن سہانے ہو گئے

ناصر کاظمی

دھوپ نکلی دن سہانے ہو گئے

ناصر کاظمی

MORE BYناصر کاظمی

    دھوپ نکلی دن سہانے ہو گئے

    چاند کے سب رنگ پھیکے ہو گئے

    کیا تماشا ہے کہ بے ایام گل

    ٹہنیوں کے ہاتھ پیلے ہو گئے

    اس قدر رویا ہوں تیری یاد میں

    آئینے آنکھوں کے دھندلے ہو گئے

    ہم بھلا چپ رہنے والے تھے کہیں

    ہاں مگر حالات ایسے ہو گئے

    اب تو خوش ہو جائیں ارباب ہوس

    جیسے وہ تھے ہم بھی ویسے ہو گئے

    حسن اب ہنگامہ آرا ہو تو ہو

    عشق کے دعوے تو جھوٹے ہو گئے

    اے سکوت شام غم یہ کیا ہوا

    کیا وہ سب بیمار اچھے ہو گئے

    دل کو تیرے غم نے پھر آواز دی

    کب کے بچھڑے پھر اکٹھے ہو گئے

    آؤ ناصرؔ ہم بھی اپنے گھر چلیں

    بند اس گھر کے دریچے ہو گئے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    دھوپ نکلی دن سہانے ہو گئے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY